یادیں پھر یادیں ہیں
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiیادیں پھر یادیں ہیں
مٹھی میں سمٹ آتی ہیں
ریت کی طرح پھسلتی ہیں
اور زمیں پر بکھر جاتی ہیں
سپنے پھر سپنے ہیں
کب اپنے ہوتے ہیں
آنکھ کھلےتو دھوکہ دے جاتے ہیں
موسم پھر موسم ہیں
وقت کے سنگ بدتے ہیں
کبھی بہار کبھی خزاں
کبھی پت جھڑ دے جاتے ہں
آنسو پھر آنسو ہیں
جو سچی آنکھ سے بہتے ہیں
جاتے جاتے بھی سب کو سب کچھ کہ جاتے ہیں
رشتے پھر رشتے ہیں
کبھی بنتے اور بگڑتے ہیں
جو چاھو ان کو کبھی
تو یہ بھی چھوٹ جاتے ہیں
رنگ پھر رنگ ہیں
ہر سو بکھر جاتے ہیں
سب کو رنگیں بناتے ہیں
اک خیالی تصویر بناتے ہیں
بے رنگ کو بھی رنگ جاتے ہیں
دوست پھر دوست ہیں
کبھی عمر بھر ساتھ نبھاتے ہی
کبھی لمحہ بھر میں بچھڑ جاتے ہں
آس پھر آس ہے
سب کو ہی یہ راس ہے
کچھ نہ بھی ہو پھر بھی یہ پاس ہے
محبت پھر محبت ہے
نہ چاہو تم اگر
پھر بھی ہو جاتی ہے
پھر ایسی آگ لگاتی ہے
ہمیں عمر بھر رولاتی ہے
عداوت پھر عداوت ہے
نہی معلوم کب ہو جتی ہے
اگر گر جائے کوئی تو اور گراتی ہے
اپنی بے بسی پر
خود ہی قہقہے لگاتی ہے
ملن پھر ملن ہے
ہو جائے تو امر ہے
نہ ہو تو اک ایسی چبھن ہے
جو عمر بھر چبھتی ہے
دوری پھر دوری ہے
زندگی میں یہ بھی ضروری ہے
جو سبکی یاد دلاتی ہے
لفظ پر لفظ ہے
جو اک دوجے سے مل کر
ساری کہانی بناتے ہیں
قلم پھر قلم ہے
جو چاھے وہ لکھ دیتے ہیں
ہر درد کو کاغذ میں سمو دیتے ہیں
اور شام پھر شام ہے
تبھی تو اودس ہے
کیو نکہ
من میں گہری چوٹ ہے
اسکے سپنوں میں
اسکی گہری باتیں ہیں
ان باتوں میں اک راز ہے
اس راز میں اس کی زات ہے
اس کی زات میں یہ اک بات ہے
کہ وہ اداس ہے
زندگی پھر ذندگی ہے
سو دھنگ ہمیں سکھاتی ہیں
کبھی ہسنا کبھی رونا
کبھی پاا کبھی کھونا
سانسوں کے ساتھ چلتا ہے
سب اسکی چالیں ہیں
موت پھر موت ہے
تب ہی تو راحت ملتی ہے
کچھ پل سب کی چاہت ملتی ہے
گز دو گز جو زمیں ملتی ہے
اپنی جاگیر لگتی ہی
مٹی کی خوشبو بھی
کچھ اپنے جیسی لگتی ہے
اندھیڑی اس نگری میں
جو رب کی نظر کرم ہوتی ہے
تو پھر ہ شمعیں جلتی ہے
جو نہ بجھتی اور پگھلتی ہیں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






