یادیں
Poet: By: M.Ahmad, Qaboola cityکوئی وقت پرانا یاد آیا
کوئی دور سہانا یاد آیا
چاک سےان دیواروں پر
کچھ لکھ کر جانا یاد آیا
تیراملنا نیم کی چھاؤں میں
اور سر رکھ دینا کندھے پر
میرا یہ کہنا کوئی دیکھ نا لے
تیرا وہ گھبرانا یاد آیا
کبھی ایسا بھی تو ہوتا تھا
میں تجھ کو چھوڑنے جاتا تھا
جب واپس آنے لگتا تھا
تیرا ہاتھ ہلانا یاد آیا
وہ وقت گزرا وہ لمحے بیتے
اب ہر جانب تنہائی ہے
اب ایک ہی منظر آنکھوں میں
تیرا چھوڑ کے جانا یاد آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








