یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamتم میری آنکھ کے آنسو نہ بھلا پاؤ گے جو نکلے عید کے دن
ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
عید کے دن ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحہء زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
میری یادوں کی خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نا بولو گے تو یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
میری ان کہی باتوں پہ آج سب تم محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آوں گا تمہیں عید کے دن
شال پہنائے گا کون دسمبر میں سرد اور ٹھہرتی راتوں میں
بارشوں میں کبھی بھیگو گے تو یاد آوں گا تمہیں عید کے دن
حادثے آیئں گے بہت تمہارے جیون میں تو تم ہوں گے نڈھال
جب دیوارں کو تھامو گے تو یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
شامل ہے اِس عید پہ میری آہوں میں بختوں کی تاریکی بھی
تم جب بھی بنو گے سنورو گے تو یاد آؤں گا تمہیں عید کے دن
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






