یاد تیری
Poet: Syed Fahad Altaf Ahmad By: Syed Fahad Altaf Ahmad, Kahror Pacaa Multanآج پھر سے مجھ کو ستا گئی ہے یاد تیری
دل کو میرے تڑپا گئی ہے یاد تیری
بے چھینی میں مجھ کو دوبا گئی یاد تیری
مجھے بے سکوں سا کر گئی ہے یاد تیری
مجھ ک و فقروں میں الجھا گئی ہے، یاد تیری
تیرے زکروں میں الجھا گئی ہے یاد تیری
بھول بیٹھا ہوں سب کچھ ہی بھلا گئی ہے یاد تیری
جزباتوں کو میرے، جلا گئی ہے یاد تیری
اک آواز سننے کی پیاس لگا گئی ہے ، یاد تیری
اک جھلک دیکھنے تیری،مجھ کو آس لگا گی ہے یاد تیری
کچھ تو احساس ملال جگا گئی ہے یاد تیری
رلا کہ بھی ندامت کا روگ لگا گئی ہے یاد تیری
چلو مانا مجبوری بھی ہے تمہاری،سمجا گئی ہے ، یاد تیری
دور جانا بھی ہے ضروری کچھ، جتا گئی ہے یاد تیری
مگر احمد کے دل ناداں کو کو بھی جلا گئ ہے یاد تیری
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






