یاد رہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہہمارا رُتبہ، تُمہارا مقام یاد رہے
خِرد سے دُور تُمہیں عقلِ خام یاد رہے
ادا کِیا تو ہے کِردار شاہ زادے کا
مگر غُلام ہو، ابنِ غُلام یاد رہے
ابھی ہیں شل مِرے بازُو سو ہاتھ کِھینچ لِیا
ضرُور لُوں گا مگر اِنتقام یاد رہے
نہِیں ابھی، تو تُمہیں جِس گھڑی ملے فُرصت
ہمارے ساتھ گُزارو گے شام یاد رہے
خمِیر میں ہے تُمہارے، بڑے بُھلکّڑ ہو
ابھی لِیا ہے جو ذِمّے تو کام یاد رہے
جو اپنے آپ کو شُعلہ بیاں بتاتے تھے
سو دی ہے اُن کی زباں کو لگام یاد رہے
بِچھڑ تو جانا ہے اِتنا گُمان رہتا ہے
لبوں کی مُہر، دِلوں کا پیام یاد رہے
یہ مُعجزہ بھی کوئی دِن تو دیکھنے کو مِلے
ہمارا ذِکر تُمہیں صُبح و شام یاد رہے
بجا کہ زیر کِیا تُم نے اپنے دُشمن کو
سنبھل سنبھل کے رکھو اب بھی گام یاد رہے
نہ ہو کہ اور کہِیں دِن کا کھانا کھا بیٹھو
ہمارے ساتھ ہے کل اِہتمام یاد رہے
رشِید اُن کو کوئی بات یاد ہو کہ نہ ہو
مگر تُمہارا وہ جُھک کر سلام یاد رہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






