تیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
Poet: انم نقوی By: انم نقوی, Karachiتیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
تیری طلب رہی تُو ہمسفر نہیں ہوا
ترے انتظار میں کئی برسوں گزر گئے
تری دید کا اک پل بھی میسر نہیں ہوا
تم جیسے کی تلاش میں پھرتی رہی برسوں
ترے سوا کوئی نظروں کا محور نہیں ہوا
جسےدیکھ کےتھم جاتی ہیں وقت کی نبضیں
دنیا میں کوئی تجھ سا وہ گہر نہیں ہوا
تخلیق ہے آدم کی محبت کی خاک سے
چاہت نہ ہو دل میں ایسا بشر نہیں ہوا
جو کھیل ہی میں ہار دے جان کی بازی
وہ کبھی قسمت کا سکندر نہیں ہوا
غیروں کےقریں دیکھ کےتمکو,ہنسوں کیسے
اتنا بڑا ابھی میرا جگر نہیں ہوا
محبت کی مسافت کو سمجھےگابھلاکیا
جو راہِ محبت میں مسافر نہیں ہوا
وہ دل بھی زمانے میں کسی کام کا نہیں
وہ دل جو محبت کا سمندر نہیں ہوا
واقف ہو حالِ دل سے اور بات نہ کرے
الفت میں کوئی اتنا بھی پتھر نہیں ہوا
پوچھے گا بتا دوں گی میں ان کو حالِ دل
یادوں کا سلسلہ تو مختصر نہیں ہوا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






