یاد عہد رفتہ
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadﮔﺰﺭﮮ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﭘﺎﺅﮞ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ
ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺩﮬﻮﻝ ﺑﮭﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﺧﺎﺭﺩﺍﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﻮﻧﺪ ﮐﺎ ﺗﺮﺳﺎ ﺻﺤﺮﺍ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺝ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺗﭙﺘﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ
ﺗﻨﮩﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﺎ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﯿﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺍﮔﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺳﯿﺎﮨﯽ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻼ ﻧﯿﻼ ﮨﻮ
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻠﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






