یاد کی آنکھ میں اب تجھ کو بٹھانا ہوگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیالوح دل سے میں ترا نام مٹانا ہوگا
کیسے بچھڑے تھے زمانے کو بتانا ہوگا
آج بیساختہ اترا ہے تُو آنسو بن کر
یاد کی آنکھ میں اب تجھ کو بٹھانا ہوگا
میں بھی انسان ہوں، دل میں ہیں غموں کے چشمے
آنکھ میں درد کی یہ جھیل چھپانا ہوگا
یہ مجھے دیکھنے دیتا ہی نہیں اور طرف
اپنی آنکھوں سے ترا عکس ہٹانا ہوگا
فلسفہ میں نے محبت کا ہے سمجھا لیکن
اپنی چاہت کو تری ہیر بنانا ہوگا
ہوسکے تجھ سے تو، سب کچھ تُو مٹا دے وشمہ
اپنی تقدیر کو خود آپ مٹانا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






