یاد ہم کو اب بھی ہے
Poet: Muhammad Haroon Mughal By: Muhammad Haroon Mughal, کراچیتیرا وہ بات کرنا، مسکرانا یاد ہم کو اب بھی ہے
تیرا ہر بات پے ہمیں ستانا یاد ہم کو اب بھی ہے
تیرا وہ زلف کو جھٹکنا اور میرا نام لینا
میرے کانوں میں کچھ کہنا اور مسکرا کے چل دینا
تیرا رونا تیرا ہنسنا سبھی کچھ ساتھ چلتا تھا
تو جب بھی ہنس کے رکتی تھی پھر اشک کا دریا چلتا تھا
تیرا وہ دور سے اشاروں میں مجھے کچھ خاص سمجھانا
میں جب کچھ سمجھ نہ پاؤں تو تیرا وہ سر کو جھٹکانا
تیرا وہ گود میں سر رکھنا اور اچانک ڈر کے اٹھ جانا
مجھے کہنا خوش رہنا خود غموں کے پاس جانا
پھر آگیا وہ دن جس کا ہم کو ڈر تھا
منزلیں ہوگئیں الگ شاید یہی ہمارا مقدر تھا
اب جب بھی ہم ملتے ہیں نگاہیں ملا نہیں پاتے
یہ سچ ہے قسمت کے لکھے کو ہم مٹا نہیں پاتے
تیری ہر بات، ہر انداز، ہر لمحہ جو تیرے ساتھ تھا نہیں بھولا
تیرا وہ آخری ہاتھ ہلانا یاد ہم کو اب بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






