یاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے
Poet: Tasdiq Ahmed Khan By: Tasdiq Ahmed Khan , Ajmerیاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے
جانَ من مجھکو محبت کا زمانا یار ہے
ہم جہاں چھپ چھپ کے ملتے تھےکبھی جانَ جہاں
آج بھی وہ راستہ اور وہ ٹھکانا یاد ہے
بھول بیٹھے ہیں ستم کے آپ ہی قصے مگر
درد غم آنسو کا مجھکو ہر فسانہ یاد ہے
اس لءے دور َ پریشانی سے گھبراتا نہیں
مشکلوں میں انکا مجھکو مسکرانا یاد ہے
گھر کے باہر یک بیک سن کر میری آواز کو
بن د پٹا تیرا دروازے پہ آنا یاد ہے
جان سے اپنی گیا پا کر اشارہ جو تیرا
کیا تجھے اپنا ستمگر وہ د وانہ یاد ہے
حکم سے کس کے گری تصدیق بجلی کیا پتہ
ہمکو جلتا صرف اپنا آشیانہ یاد ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






