یارب بخش دے
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiیا رب تو ایسا اب ہمیں سنسار بخش دے
جو امن اور سکوں کا ہو شہکار بخش دے
نفرت کا خاتمہ میں یوں دنیا سے کر سکوں
یارب دعا ہے دولتِ افکار بخش دے
میرے دکھوں کو بانٹنے والا بھی ہو کوئی
ایسا تو مجھ کو کوئی غم خوار بخش دے
سمجھیں یہاں پہ لوگ مری بات کو سبھی
مجھ کو تو ایسی قوتِ اظہار بخش دے
سنتا نہیں یہاں پہ کوئی بات کو مری
لفظوں کو میرے قوتِ گفتار بخش دے
دنیا سے ظالموں کا کرے خاتمہ جو اب
ایسا ہمیں یہاں کوئی جی دار بخش دے
حاکم ہمیں عطا ہو خدا عمرؓ سا کوئی
پھر سے ہمیں تو حیدرِ کرار بخش دے
اس قوم کو تو صاحبِ کردار بخش دے
ہو کوئی گر جناح سا معمار بخش دے
یہ سر نہیں جھکے کبھی ظالم کے سامنے
سولی چڑھائے ہم کو یا ہر بار بخش دے
کرتے رہیں بیاں سدا مدحت رسولﷺ کی
اشعار کو مرے تو یہ گفتار بخش دے
ڈٹ جائیں ہم حسینؓ کے انکار کی طرح
ظالم کے آگے قوتِ اظہار بخش دے
دنیا کی رغبتوں نے بھی بزدل بنادیا
سنت نبیﷺ پہ چلنے کے اطوار بخش دے
یارب مجھے بھی آقا ﷺ کا جلوہ دکھائی دے
کعبے میں مجھ کو بھی اک افطار بخش دے
ارشیؔ کی یہ دعا بھی خدایا قبول ہو
محشر میں تو شفاعتِ سرکارﷺ بخش دے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






