یونہی تو رنگین نہیں ہے ٓانچل میری غزلوں کا
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, laoreآج زمینِ یاس پہ میری پیار کا بادل ۔۔۔۔۔برسا ہے
رنگ حنا کا قوسِ قزح کی صورت ذہن میں اُبھرا ہے
تیری یاد کی سیج پہ بیٹھے پہروں چاند کو ۔۔۔دیکھا ہے
سچ پوچھو تو چاند کے اُ وپر تیرا نور۔۔۔۔۔۔ جھلکتا ہے
تیرے روپ کی دھوپ سے ہم کو ہجر کی کالی رات ملی
ہجر کی کالی رات کا لیکن ہر اک خواب۔۔۔ سنہراہے
تم کیا جانوں کیا لذّت ہے اہل ِ عشق کے رونے میں
میرے لہو ہر اک قطرہ آنسو بن کے۔۔۔۔۔ ٹپکا ہے
کیسے پھول بنی ہیں کلیاں اہل ِ نظر سے ۔۔۔۔پوچھو تو
ہم نے درد کو لمحہ لمحہ دل پہ اُترتے۔۔۔۔ دیکھا ہے
پھر جا کے ایسا نقش بنا ہے جو میری۔۔۔۔ پہچان ہوا
میرے لہو کا قطرہ قطرہ رگ رگ سے جب ٹپکا ہے
پہلے دل کے آئینے میں ایک ہی تھی۔۔ تصویر تری
اب ہر اِک ٹکڑے کے اندر تیرا روپ ۔دمکتا ہے
یوں ہی تو رنگین نہیں ہےآنچل میری غزلوں کا
میرے خیالوں کی تتلی نے اِک اِک پھول کو چوما ہے
کتنے ہی دل والوں نے اُمیدیں تم سے باندھی ہیں
کس کی یاد میں اے جاناں یہ کاجل آنکھ کا پھیلا ہے
آج تو میرے دل میں بھی اِس وہم لی ہے انگڑائی
ہے تارہ میری قسمت کا جو اُسکی آنکھ پہ۔۔ چمکا ہے
سو بار دکھاوْ سکھیوں کو اِک بار دکھا دو ۔مجھ کو بھی
جب میرے لہو سے اے جاناں رنگ دست ِ حنا کا نکھرا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






