یوں آپ کس لیے اتنے اداس بیٹھے ہیں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanبڑے خموش سے پھولوں کے پاس بیٹھے ہیں
یوں آپ کس لیے اتنے اداس بیٹھے ہیں
ملی نہ جن کو محبت ، نہ اک خوشی بھی کبھی
بنے ہوئے وہی تصویر یاس بیٹھے ہیں
ہماری بزم تو آہوں کی بزم ہی ٹھہری
وہ قہقہوں کی فضا میں اداس بیٹھے ہیں
کوئی تو معجزہ بدلے گا مفلسوں کے حالات
لگائے دل کو یہی ایک آس بیٹھے ہیں
امیر شہر کے تن پہ تو ریشمی کپڑ ے
غریب پہنے غموں کا لباس بیٹھے ہیں
سنائیں بزم میں بے عیب شاعری زاہد
کہ اس ہنر سے سبھی روشناس بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






