یوں بھی نہیں کہ شام و سحر انتظار تھا
Poet: Zafar Iqbal By: Zafar, Sargodhaیوں بھی نہیں کہ شام و سحر انتظار تھا
کہتے نہیں تھے منہ سے مگر انتظار تھا
مدت کے بعد پھول کی صورت کھلا تھا دل
شبنم کی طرح تازہ و تر انتظار تھا
بالوں میں دھول پاؤں میں چھالے نہ تھے مگر
پھر بھی کچھ ایک رنج سفر انتظار تھا
کوئی خبر تھی اس کی پرندوں کے شور میں
رنگ ہوا میں شاخ و شجر انتظار تھا
یوں تھی جواہرات لب و چشم کی جھلک
جیسے یہ کوئی لعل و گہر انتظار تھا
دالان و در میں ایک توقع تھی موج موج
دیوار و بام تھے کہ بھنور انتظار تھا
ایسے میں اعتبار کسی پر نہ تھا مجھے
میں بھی تھا ساتھ ساتھ جدھر انتظار تھا
آنکھیں تھیں خشک خشک تو دل بھی تھا بند بند
کھل ہی نہیں رہا تھا کدھر انتظار تھا
مایوس ہونے والے نہ تھے ہم بھی اے ظفرؔ
آیا نہیں تو بار دگر انتظار تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






