یوں تو وہ میری چھاؤں ہے میرا ہی بخت ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایوں تو وہ میری چھاؤں ہے میرا ہی بخت ہے
میں کیا کروں کہ پیار کا لہجہ کرخت ہے
ٹھہرو ذرا میں پیار کی چھاؤں سمیٹ لوں
اپنوں کا سبز آج بھی سر پہ درخت ہے
مشکل میں ہے یہ دیکھ لو قسمت کی ہر لکیر
خوشیوں کا ذکر اب بھی یہاں لخت لخت ہے
تخلیق بھی وہ میری ہے میری زمین پر
میری ہی سلطنت ہے وہ ، میرا ہی تخت ہے
آؤ نا تم بھی پیار کی چھاؤں میں کھیل لو
موجِ وفا کے پاس تو اک ہی درخت ہے
کیوں میری زندگی سے ہے معدوم روشنی
شمس و قمر کے جیسا نہ میرا یہ بخت ہے
زندانِ اضطراب میں وشمہ جی دیکھ لو
ان تتلیوں کے دیس کا موسم بھی سخت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






