یوں تو کوئی بات نہ تھی
Poet: Moona Naqvi By: Moona Naqvi, SARGODHA بے ربط سے اپنے رشتے میں یوں تو کوئی بات نہ تھی
بس ملنا جلنا رہتا تھا یوں کوئی بات نہ تھی
نرم ملائم جذبوں کی وہ تشہیر کیا کرتا تھا
ہم سچ اسے سمجھتے یوں تو کوئی بات نہ تھی
وہ بازی گر تھا لفظوں کا لفظوں سے بازی مارتا تھا
لفظوں پہ یقیں ہم رکھتے تھے یوں تو کوئی بات نہ تھی
اسکو کمال حاصل تھا دلوں کو مسخر کرنے کا
ہم اس سے تسخیر ہوا کرتے تھے یوں تو کوئی بات نہ تھی
آنکھ کے شیشے سے کیسے دل میں اترا جاتا ہے
جانتا تھا وہ سارے ہنر یوں تو کوئی بات نہ تھی
ہم اسکو پوجتے رہتے تھے چہرے سے جو انسان ہی تھا
ہم اس کو دیوتا اسے سمجھتے تھے یوں تو کوئی بات نہ تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






