یوں زندگی کی راہ میں آگیا کوئی
Poet: zubair nasir By: dr.zubair nasir, gujranwalaیوں زندگی کی راہ میں آگیا کوئی
حواسوں پہ میرے چھا گیا کوئی
نہ دل ہی ہے قابو میں نھ ہوش ہے کوئی
میں یھ سمجھا تھا میں آزاد ہوں
آزادی کے پروانے کی پرواز ہوں
یوں جکڑ سکتا ہےکوئی میرا آوارا دل بھی
لفطوں کے پھولوں کی خوشبو سے سمجھا گیا کوئی
اور یوں اک آوارہ بھنورے کو پروانا بنا گیا کوئی
دل چیز کیا ہے طلب و انتظار فقط
بات اسطرح سے سمجھا گیا کوئی
ٹوٹتا ہے دل جب وہ آہ بھی کرے
چوٹ اسے لگے درد دل میرے کو ملے
ہے محبت تجھ سے بھی اسے ناصر
معطر سانسوں میں یوں سمجھا گیا کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







