یوں ہی گزر گئے تیرے شہر سے
Poet: Khalid Pervez By: Jibran, Sialkotیوں ہی گزر گئے تیرے شہر سے یار چلتے چلتے
گُلِ آرزو کھلے نہ کیا دیدار چلتے چلتے
بڑا ہی شباب تھا جب چلا کعبہ کی طرف
اشک آنکھوں سے گرے کئی بار چلتے چلتے
اور ہر بزم میں اپنا ہی یہ تزکرہ تھا
سنا میں نے بھی ہے بھرے بازار چلتے چلتے
تیری الفت کا طالب کس کس خیاباں سے گزرا
گیا پاؤں کے چھوڑ کر ہے آثار چلتے چلتے
آئے تھے ارمان لے کر بےقرار ہو کے نکلے
زخم مجھ کو ملے کئی ہزار چلتے چلتے
نہ کیا کبھی بھی شکوہ طبیبوں سے جا کر
جسم و جاں بھی گئے ہم ہار چلتے چلتے
کہا لوگوں نے رہے نہ اک غم تجھ کو باقی
میری قبر پہ بچھا کر گُلِ ہار چلتے چلتے
رنگ بھر دے اے مصور میری اداسیوں میں
رہا خالد میرے دل میں پھر بھی انتظار چلتے چلتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






