یک جہتی کے نشاں
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiسمندر، روشنی، مٹّی، ہوائیں
پرندے ، آسماں، خوشبو، گھٹائیں
یہ بنجارے ، یہ پاوندے، یہ جپسی
ہے”دین شہریت“ٹھوکرمیں جن کی
ہمارے دور اول کے امیں ہیں
ہمارے ایک ہونے کا یقیں ہیں
یہ باغی قومیت کے مِلّتوں کے
یہ منکر سرحدوں کی حرمتوں کے
انھیں انکار تعظیم وطن سے
زمیں کو بانٹ دینے کے چلن سے
من وتو کے سبھی نعروں کے دشمن
تمھارے قومی گہواروں کے دشمن
وحی ہیں، یہ حدیث معتبر ہیں
بنی آدم کے فردا کی خبر ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






