یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiاے کاش کوئی آئینہ ایسا بنا سکے
لوگوں کو ان کا چہرہ جو اصلی دکھا سکے
جھلسا رہی ہے جو مرے پورے وجود کو
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
جس نے بھی ہاتھ تھاما کہیں اور لے چلا
حسرت رہی کوئی ہمیں منزل دکھا سکے
اک عمر تیرے شہر میں ہم نے گذار دی
پھر بھی نہ تیرے دل میں کبھی ہم سما سکے
کردار پاک صاف ہو عزت اسی میں ہے
کس کی مجال ہے کوئی انگلی اٹھا سکے
ہر چیز بے وفا کی رکھی ہے سنبھال کر
شائید ایک دن وہ انہیں لینے آ سکے
وہ لاکھ بھول جائے سبھی بات کو مگر
اس کی ہے کیا مجال جو ہم کو بھلا سکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






