یہ تاکید محبت ہے
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaیہ تاکید محبت ہے
یا
تجدید محبت ہے
مگر جو کچھ بھی ہے جاناں
یہ توحید محبت ہے
سو توحید محبت میں
بچھڑنے کا کبھی
دھڑکا نہیں ہوتا
بخر چاہت کسی دل میں
کوئی جذبہ نہیں ہوتا
کبھی تاکید یا تجدید
کی نوبت نہیں آتی
کوئی کاغذ،کوئی خط،کوئی پھول
یا
تحفہ نہیں ہوتا
میری آنکھوں میں جتنے رنگ ہیں
ان سب میں چاہت ہے
میرے ہونٹوں پہ جتنے لفظ ہیں
ان میں عقیدت ہے
تمہیں معلوم ہے
چاہت تو اک ایسی حقیقت ہے
جسے لفظوں،خطوں،پھولوں
یا
تحفوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی
جہاں دل سے دل کی بات
خود دل تک پہنچتی ہے
جہاں آنکھوں سے نکلے اشک
خود اظہار کرتے ہیں
کہ ہم کس خال میں ہیں
اور کتنا پیار کرتے ہیں
سو جان غزل دیکھوں
میری آنکھیں، دھڑکتا دل
اور
اس میں موجرن جز بے
میری چاہت کا تحفہ ہیں
میری چاہت کے سب تحفے
تمہارے پاس ہیں جاناں
مجھے یوم محبت پر
تمہیں کچھ نہیں دینا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






