یہ تماشہ بھی دیکھ آج سرعام ہوا

Poet: UA By: UA, Lahore

یہ تماشہ بھی دیکھ آج سرعام ہوا
ایک دل تھا ہمارا وہ بھی تیرے نام ہوا

وہ جو اوروں کا حرف حرف چھپا لیتا ہے
فسانہ اس کا ہر ایک بزم میں ہے عام ہوا

ہم نہ کہتے تھے یہ دنیا ہے دل کی بات نہ کر
تیرا اقرار وفا تیرے لئے دام ہوا

غیر تو غیر تھے اپنے بھی غیر ہونے لگے
تیرے اظہار برملا کا یہ انجام ہوا

اب تو یہ حال کہ عظمٰی خبر نہیں ہوتی
صبح کا وقت ہوا یا کہ وقت شام ہوا

Rate it:
Views: 482
01 Mar, 2012