یہ تم آئے ہو کہ میں دیکھ رہا ہوں سپنا
Poet: rehan abbas By: rehan, lahoreگھاس کا فرش ہے ، ہم ساتھ ہیں ،چلتے جائیں
گدگداتی ہوئی پر کیف ہوا کے جھونکے
پاس سے گزریں تو سرگوشی میں ہستے جائیں
جیسے ان کو بھی پتہ ہو کہ مرا پیار ہو تم
رات خاموش ہے اتنی کی تری پلکیں بھی
شور کرتی ہوئی گرتی ہیں تری آنکھوں پر
ہونٹ کھلتے ہیں کہ کلیاں سی چٹکتی ہیں کہیں
دل کی دھڑکن بھی مجھے صاف سنائی دے ہے
چاند بھی دور سے چھپ چھپ کے ہمیں دیکھتا ہے
جیسے بچہ ہو شرارت کرے شرمائے بھی
آسماں تھال ستاروں کا لیے جشن میں ہے
میں بڑی دیر سے چپ چاپ یہی سوچتا ہوں
یہ تم آئے ہو کہ میں دیکھ رہا ہوں سپنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






