یہ تو ملنے کا سلسلہ ہی نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ تو ملنے کا سلسلہ ہی نہیں
شہر جاں کا کوئی صلہ ہی نہیں
میرے پیچھے ہے ڈوبتا سورج
غم میں غمگین روکتا بھی نہیں
میری آنکھوں میں رت جگے ہیں مگر
میرے خوابوں سے رابطہ ہی نہیں
وہ جو رہتا ہے دل کی دھڑکن میں
اس کو اپنوں سے واسطہ ہی نہیں
اب جو مجھ سے خفا یہ قسمت ہے
پھر ترا کوئی پوچھتا ہی نہیں
منزل عشق پھر کہاں مشکل
استواری کا فیصلہ ہی نہیں
بس خدا کا ہی نام یاد رہے
خواہشوں کی کوئی دعا ہی نہیں
خود کو طوفاں میں آزمائیں ذرا
ساحلوں کا ہی راستہ ہی نہیں
خیر اوروں کے واسطے ہو سدا
اس کو اپنوں سے واسطہ ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






