یہ تیری محبّت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubai بہت دل ہے کہ چھوڑ دوں بیچ رستے سفر اپنا
ناکامیوں کی اداسی بہت رلاتی مجھ کو مگر
یہ تیری محبّت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
میں جتنا بھی ٹوٹ کے بکھروں
چاہے ہاروں میں جتنی بار مگر
یہ تیری چاہت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
بہت ہمّت سے کرتا ہوں اکھٹا خود کو
گرچہ سمیٹنا ہوتا ہے بہت مشکل مگر
یہ تیری اداسی ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
بہت مشکل ہے ناکامی کے درد کو سہنا
ایک ایک کر کے سب کا چھوڑتے جانا مگر
یہ تیری توجه ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
بہت عام سا ہو جاتا ہے رویہ سب کا
آنکھیں پھیر لیتے ہیں سب اپنے مگر
یہ تیری نظریں ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
مجھے پتا ہے کہ اب کی بار میں ہی جیتوں گا
ڈر تو ہے پھر سے قدم اٹھانے کا مگر
یہ تیری دعا ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






