یہ جگنو تیری راہگزر ڈھونڈتے ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillوہ دیدہ ء تر ،وہ نظر ڈھونڈتے ہیں
یہ جگنو تیری راہگزر ڈھوندتے ہیں
تپی ریت ہے ۔خار ہے،دھوپ ہے
آوارہ پرندے شجر ڈھونڈتے ہیں
بڑی عمر گزری ہے تاریکیوں میں
تیری دید کی اک سحر دھونڈتے ہیں
یہ الفاظ و معنی ۔حرف ،استعارے
ہیں بنجارے ،تیرا اثر ڈھونڈتے ہیں
کوئی اس قفس سے رہائی دلا دے
کہ لمحے کوئی ہمسفر ڈھونڈتے ہیں
بہت کھا چکے ہیں تھپیڑے ہوا کے
چلو طائرو اپنے پر ڈھونڈتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






