یہ جینا بھی کیسا جینا ھے
Poet: Asad By: Asad, mpkبس ایک پل کو رویا وہ موت پر اپنی
اور تمام عمر رلاتا رھا اپنی جدائی میں
اگر میلا کر کے مرتے تو کیا ہی بات تھی
حیف !! مگر قسمت مرے بھی تو اکیلائی میں
یہ جینا بھی کیسا جینا ھے کہ ہوں فقط زندہ
کوئی جیتا آزاد زندگی تجھ سے پاکر رہائی میں
مانا کہ اختلاف رکھتا ہون تجھ سے رائے میں
پر کیوں کوئی کارن بنوں تیری جگ ہنسائی کا
ھے امید کہ پھر ملیں گے کبھی کسی اور دن
اس دنیا کے میلے مین اس کی رعنائی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






