یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے
Poet: طارق نعیم By: Zumra, Karachiیہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے
کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے
مرے ماہ تم تو حجاب ہی میں رہے مگر
ہمیں تاب تھی تب و تاب میں تجھے دیکھتے
کبھی کوئی بابت حسن ہم سے جو پوچھتا
تو ہم اہل عشق جواب میں تجھے دیکھتے
کسی اور دھج سے بناتے تیرا مجسمہ
کبھی ہم جو عین شباب میں تجھے دیکھتے
کبھی دیکھتے تجھے تیرگی کے جمال میں
کبھی روشنی کے سراب میں تجھے دیکھتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






