یہ درد کی سوغات سدا شاد رہے گی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلایہ درد کی سوغات سدا شاد رہے گی
مر کر بھی وہ اس دل میں ہی آباد رہے گی
میں قید صعوبت میں تو مٹ جاؤں گی لیکن
زنداں میں سلاسل کی کھنک یاد رہے گی
دیکھا ہے ترا عکس وفا خواب میں شب بھر
چہرے پہ ابھی پیار کی فریاد رہے گی
لکھا ہے اگر دل پہ کوئی درد کا نغمہ
پلکوں کے جھروکوں میں وہ روداد رہے گی
بدلے ہیں اگر رنگ یہ حالات نے رخ پر
پھر سوچ ہماری بھی تو آزاد رہے گی
ہے کوئی ادا کر دے مجھے پیار کی دولت
ورنہ یہ منا یہ زیست سدا شاد رہے گی
اک بار تو روٹھے ہوئے خالق کو منا لیں
تب تک بکھری زیست تو برباد رہے گی
جب خود کو مٹا ڈالا ترے پیار کی خاطر
پھر عمرِ جوانی بھی تو برباد رہے گی
یہ ہے دلِ نازک کی کہانی کا کرشمہ
وشمہ ہی مرے پیار کی استاد رہے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






