یہ رشتہ “میں“ یا “تو“ سے بڑھ کے جب تک “ہم“ نہیں ہو گا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ مانا بن تمہیں دیکھے بھی دم میں دم نہیں ہو گا
مگر دیدار کا لمحہ بھی اس سے کم نہیں ہو گا
کدھر کی آس کہ جو آپ پر مرکوز نہ ہو گی
کہاں کا پھول کہ جو طالب شبنم نہیں ہو گا
خدا وہ وقت بھی لائے گا میرے دیس میں جاناں
کہیں دہشت نہیں ہو گی کہیں ماتم نہیں ہو گا
تھکے لمحو کہا تھا ناں؟ کہ میرے ساتھ نہ چلنا
یہ رستہ خار ہو گا اطلس و ریشم نہیں ہو گا
اڑے گا اور آب و تاب سے افلاک میں دیکھو
ہوا سے سرنگوں یہ شوق کا پرچم نہیں ہو گا
مجھے معلوم ہے اتنی بھی کیسی بے یقینی ہے
بجز تیرے کسی کے آگے یہ سر خم نہیں ہو گا
اے راز رازداناں آج تو پردہ کشائی ہو
یہ داغ ہجر ہے باتوں سے تو مدھم نہیں ہو گا
جئیں گے اس طرح کہ موت بھی نظریں چرائے گی
مریں گے اس طرح کہ زندگی کا غم نہیں ہو گا
تو پھر یہ طے ہے کہ تب تک ہمیں گردش میں رہنا ہے
یہ رشتہ“میں“ یا “تو“ سے پڑھ کے جب تک “ہم “ نہیں ہو گا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






