یہ رشتہ “میں“ یا “تو“ سے بڑھ کے جب تک “ہم“ نہیں ہو گا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ مانا بن تمہیں دیکھے بھی دم میں دم نہیں ہو گا
مگر دیدار کا لمحہ بھی اس سے کم نہیں ہو گا
کدھر کی آس کہ جو آپ پر مرکوز نہ ہو گی
کہاں کا پھول کہ جو طالب شبنم نہیں ہو گا
خدا وہ وقت بھی لائے گا میرے دیس میں جاناں
کہیں دہشت نہیں ہو گی کہیں ماتم نہیں ہو گا
تھکے لمحو کہا تھا ناں؟ کہ میرے ساتھ نہ چلنا
یہ رستہ خار ہو گا اطلس و ریشم نہیں ہو گا
اڑے گا اور آب و تاب سے افلاک میں دیکھو
ہوا سے سرنگوں یہ شوق کا پرچم نہیں ہو گا
مجھے معلوم ہے اتنی بھی کیسی بے یقینی ہے
بجز تیرے کسی کے آگے یہ سر خم نہیں ہو گا
اے راز رازداناں آج تو پردہ کشائی ہو
یہ داغ ہجر ہے باتوں سے تو مدھم نہیں ہو گا
جئیں گے اس طرح کہ موت بھی نظریں چرائے گی
مریں گے اس طرح کہ زندگی کا غم نہیں ہو گا
تو پھر یہ طے ہے کہ تب تک ہمیں گردش میں رہنا ہے
یہ رشتہ“میں“ یا “تو“ سے پڑھ کے جب تک “ہم “ نہیں ہو گا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






