یہ زندگی تو موت سے ابتر لگے مجھے
Poet: Zeeshan By: Shanzee, karachiیہ زندگی تو موت سے ابتر لگے مجھے
تیرے بغیر کانٹوں کا بستر لگے مجھے
دیوار و در کے ساتھ دریچے بھی ھیں مگر
ھر شخص تیرے شھر کا بے گھر لگے مجھے
پھینکے جو تو نے پھول کسی کے خیال میں
میرے ندیم تیر وہ اکثر لگے مجھے
منزل کے پاس لٹتے ھوئے دیکھے کارواں
اب زکر وصل سے بھی یھاں ڈر لگے مجھے
یہ معجزہ جنوں کا ھے یا عشق کا کمال
دیوار اپنی راہ کی بھی در لگے مجھے
اتریں صحیفے پیار کے دل پہ ترے شان
تو کیوں نہ چاھتوں کا پیمبر لگے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






