یہ غموں پہ تیرا یوں مسکرانا
Poet: Malik Hidayatullah Shad By: Malik Hidayatullah Shad, Ubaro, Sindhیہ غموں پہ تیرا یوں مسکرانا
نہ جانے مجھے کیا کچھ یاد دلا گیا۔
محبت میں دوریاں اب رواج بن گیا ہے شاد
جسے دیکھو وہ اپنا گلستاں کھوءے بیٹھا ہے۔
محبت میں الفاظ کا کیا کرنا شاد
یہ انکھیں میرے راز کو فاش کر دیتی ہیں
بتاؤں کس طرح تم سے وطن کا حال مت پوچھو
قفس میں رہنے والے سے چمن کا حال مت پوچھو
کٹے ہوں جس کے بال و پر کبھی ایسے پرندے سے
بھلے سب پوچھ لو لیکن گگن کا حال مت پوچھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






