یہ قصور میرا ہے
Poet: MZ By: MZ, karachiیہ قصور میرا ہے
کہ یقین کیا ہے
دل تیرے ہی خاطر رکھ چھوڑ دیا ہے
تو ہی سب سے قریب ہے میرے
تو ہی میرا نصیب ہے
اب یہ محسوس کیا ہے
اک تو ہی ہے دولت میری
حاصل تو میرا۔۔۔۔
کتنی ہے محبت تجھ سے ے حساب وفا۔۔
حسرتوں سے بھر کر اپنی چاھا تجھے ہمیشہ
یہ قصور میرا ہے
کہ یقین کیا ہے
دل تیرے ہی خاطر رکھ چھوڑ دیا ہے
کوئی درد رہا نا دل میں نہ کوئی خلا
ہر خواہش پوری ھوئی ہے تجھے پا جو لیا
دور مجھ سے ھونا کبھی نا کرنا یہ اک احسان
یہ قصور میرا ہے
کہ یقین کیا ہے
دل تیرے ہی خاطر رکھ چھوڑ دیا ہے
تو ہی سب سے قریب ہے میرے
تو ہی میرا نصیب ہے۔۔۔۔
اب یہ محسوس کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






