یہ محبت نہیں تو کیا ہے؟ شاکئ
Poet: Asif Shaaki By: Asif Shaaki, Karachiنیند بھی مجھ سے روٹھ کر سو گئی
جس دن فقط میری شاعری کی ڈائری کھو گئی
ہو کے پریشان میں اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا
کیونکہ میری زندگی کا سرمایہ کھو گیا تھا
رات ٨:٠٠ بجے میں اسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا
دروازے پہ ہوئی آہٹ تو میرا وہ اک موصوف تھا
ہاں وہی تو تھا ہمدرد، دلبر، جانم میرا
اے کاش ہوتا وہی ہم قدم میرا
یہ دل سوچ رہا تھا
وہ کیوں آیا تھا؟
جب میں اس وقت اپنی زندگی کی تلاش میں اسے بھول بیٹھا ہوں
جس کے لئے میں ایک دن سے نہ گھڑی بھر کے لئے لیٹا ہوں
فرضی مسکراہٹ سے اسے خوش آمدید کہا
مگر فی الحال دل نے اسے بھی نا دید کہا
آکر اس نے اچانک سے مجھ سے میری مصروفیت کا پو چھا
ٹال مٹول کر کے اس سے میں نے مختصرن سا کہا
نہ جانے کیوں اس نے میرے ماضی کو کریدنا چاہا
مگر میں پھر بھی چپ چپ سا رہا
اچانک سے اس کی آنکھیں برس پڑیں
جب میرے ہاتھوں پہ اشکوں کی بوندیں پڑیں
میں بوکھلا سا اٹھا
آخر یہ کیا ہو گیا؟
کہیں میری وجہ سے اس کا دل تو نہ ٹوتا
کیوں آخر وہ مجھ سے ہے روٹھا؟
اسی نے فوراً سے معذرت چاہی
پھر سنا ڈالی سب کی سب سچائی
کیا مجھ پر ہے برسوں سے بنتی آئی
کیوں اس پر آج اتنی بن آئی
پھر اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر ڈالا
اس نے میرے سرمایہ کو ہے سارا پڑھ ڈالا
میری ڈائری اس نے آنچل تلے دبائے رکھی تھی
میری بلکہ زمانے کی نظروں سے چھپائے رکھی تھی
اتفاق سے اس کے پاس چلی گئ تھی ڈائری
افسوس کہ اس نے میری پڑھ لی تھی شاعری
اک سوال وہ اچانک سے کرنے لگی
کیا کبھی تم نے کسی سے ہے محبت کی؟
میں نے فوراً سے نفی کی
اچا نک سے اس نے کہا
میں نے یک یہ جرم کر لیا ہے
سب کچھ تیرا سرمایہ پڑھ لیا ہے
مزید مضطرب ہو کر بے ساختہ سے اس نے کہا
یہ محبت نہیں تو کیا ہے شاکی؟
سب کا خیال کرتا ہے
خود کا جینا محال کرتا ہے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






