یہ پودے
Poet: اریبہ خان By: Areeba Khan, Karachiیہ جو پودے تمہارے باغ میں ہیں
یہ لگتے کتنے اچھے ہیں
ان پھولوں کا کیا راز ہے
،جو چادر اوڑھے کھڑے ہیں
اس ڈالی پر جو بیٹھے ہیں
کتنے سنہرے پرندے ہیں
اس گلشن کی ہوا میں مانو
کچھ تازے پھول بکھرے ہیں
یہ جو پودے تمہارے باغ میں ہیں
یہ لگتے کتنے اچھے ہیں
اُس آبشار کے گرتے پانی کے
سب قطرے میٹھے میٹھے ہیں
اس گلشن کی ہریالی میں
سب ہی مہکے بہکے ہیں
یہ جو پودے تمہارے باغ میں ہیں
یہ لگتے کتنے اچھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






