یہ پیار نہیں
Poet: Zahid By: Zahid Hussain, mardanکون کہتا ہے بھول جائے گا
وہ اسے روز یاد آئے گا
دور جاتے ہوئے کہیں پر بھی
یادیں اس کی بہت لے جائے گا
یہ بھی ممکن ہے دور جا کے اسے
یاد اس کی بہت رلائے گا
اک طرف کام ہو کرنے کا غم
اک طرف پیار بھی نبھائے گا
کام کرتے ہوئے کسی پل جو
ذہن کو اس طرف لے جائے گا
اور تو بس میں کچھ نہیں ہوگا
آنکھ بھر آئے گی یا پھر وہ مسکرائے گا
فون آئے گا جب اسے اس کی
خوشی سے پھولے نہ سمائے گا
کال کٹ جائے ایک لمحے کو
دل اس کا ٹک سے ٹوٹ جائے گا
سوچتے سوچتے جب رات ہوگی
جانے پھر چین کیسے آئے گا
پورے کی پوری رات اور ایک دن
جاگتے جاگتے گزارے گا
سب ہی کہیں گے کہ دیوانہ ہے
لیکن وہ پیار ہی نبھائے گا
پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ پیار نہیں
زاہد اب کس کس کو سمجھائے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






