یہ کیا ہو رہا ھے ساتھ اپنے پیار میں
Poet: اسد جھنڈیر By: ASAD, MPK یہ کیا ہو رہا ھے ساتھ اپنے پیار میں
کہ دل اپنا قابو میں نہیں اختیار میں
باز کیوں نہین آتا کوئی بیوفائی سے اپنی؟
کیوںکر کمی لا تا ھے کوئی اپنے پیار میں؟
دشمنی جب ھے نہیں پھر کیوں بگڑتا ھے؟
بات کیوں کرتا نہیں لطف و قرار میں؟
ہر بار نیا بہانہ آ خر کب تک چلے گا؟
آہ! کب تک جیوں گا زندگی انتظار میں؟
جھوٹے پر خدا کی لعنت یار سچ کہتا ہوں۔
جنوں کی خد تک کرتا ہوں تجھسے پیار میں
مانا کہ تجھ کو انکار ھے اپنی محبت سے۔
پر کوئی تو کارں پیش کرو اس تکرار میں۔
کہیں ایسا نہ ہو غم جدائی آزار بن جائے۔
واں ادھر روئے تو ادھر ہوں اشکبار میں۔
کیوں بے وفائی میں حد سے گذرتے ہو؟
کہیں خود رسوا ہو جائو اور شرم سار میں۔
اسد سراسر ظلم کیا ہم نے ساتھ اپنے۔
کہ دل تم کو دے دیا تمہارے اختیار میں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






