ﺍﮎ ﻟﻔﻆِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﺩﻧﯽٰ ﯾﮧ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
Poet: Jigar Murad Abadi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﺍﮎ ﻟﻔﻆِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﺩﻧﯽٰ ﯾﮧ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺳﻤﭩﮯ ﺗﻮ ﺩﻝِ ﻋﺎﺷﻖ، ﭘﮭﯿﻠﮯ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﮐِﺲ ﮐﺎ ﺗﺼﻮّﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐِﺲ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ؟
ﺟﻮ ﺍﺷﮏ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺎ ﺩﺍﻧﮧ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﺳﻨﮓِ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺎ ﮨﺮﭼﻨﺪ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺍ ﺩﻝ ﮨﮯ، ﺩﻝ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺭﻭﻧﮯ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ، ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮐﻮ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎ ﺩﺷﻤﻦ، ﻣﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺳﺐ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺷﺎﻋﺮ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﻓﻄﺮﺕ ﻣﺮﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧ، ﻗﺪﺭﺕ ﻣﺮﺍ ﺷﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍُﻥ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﺗﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯽ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺁﻏﺎﺯِ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ، ﺁﻧﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﮯ، ﺁﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﭼُﭗ ﭼُﭗ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﺎﺯﮎ ﺳﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﮎ ﺳﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺗﮭﮯ ﺧﻔﺎ ﮨﻢ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺧﻔﺎ ﺍُﻥ ﺳﮯ
ﮐﻞ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﺁﺝ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺍﮮ ﻋﺸﻖ ﺟﻨﻮﮞ ﭘﯿﺸﮧ! ﮨﺎﮞ ﻋﺸﻖ ﺟﻨﻮﮞ ﭘﯿﺸﮧ
ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺳﺘﻤﮕﺮ ﮐﻮ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺭُﻻﻧﺎ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﻋﺸﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﮞ، ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ
ﺍﮎ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮈﻭﺏ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺩ ﺣﺴﻦ ﻭﺷﺒﺎﺏ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﻢ ﮨﮯ ﺭﻗﯿﺐ ﺍﭘﻨﺎ
ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ، ﺗﺐ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ، ﺁﺋﯿﻨﮧ ﮨﮯ، ﺷﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﻋﺸﻖِ ﻣﺠﺴّﻢ ﮨﯿﮟ، ﻟﺐ ﺗﺸﻨﮧ ﻭﻣﺴﺘﺴﻘﯽ
ﺩﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺴﯽ، ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺭُﻻﻧﺎ ﮨﮯ
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺭُﺥ ﮨﯿﮟ ﺟﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻢِ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺍﮎ ﻧﻘﺶ ﭼﮭﭙﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﺍﮎ ﻧﻘﺶ ﺩِﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﺩُﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮨﺮ ﻟﺤﻈﮧ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻧﺎ
ﺍﺏ ﺁﺋﮯ، ﻭﮦ ﺍﺏ ﺁﺋﮯ، ﻻﺯﻡ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺩﺍﺭﯼ ﻭ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ، ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﻭ ﺧﻮﺩﺍﺭﯼ
ﺍﺏ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺭﮐﮭﮯ، ﺍﺏ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺒﺴّﻢ ﻣﯿﮟ، ﺁﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺮﻧّﻢ ﻣﯿﮟ
ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ
ﺁﻧﺴﻮ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﺮ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﻨﺪﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻣﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﺩﺍﻧﺎ ﮨﮯ
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






