ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻭﮦ ﻟﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ
ﺑﺎﺕ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ
ﺭﻭﺯ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﭼﮭﺖ ﭘﮧ ﺁﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﭼﻮﻡ ﻧﺎ ﻟﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮱ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺎﻗﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
More Sad Poetry
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Mohammed Masood
درد دل پھر وہی درد ، وہی زخم ، وہی مرحم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
Ghulam Mujtaba faroqii
زمانے سے کنارا زمانے سے کنارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
Kesar Khan






