ﺫرا سا درد دینا تم... خود کو تخلیق کرنا ہے
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockﺫرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
اک مٹھی سسکیاں دینا
اور ﺫرا سی آہیں بھی
کہ دل کو خون کرنا ہے
ﺫرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
جو ہو سکے دو آنسو دے دو
آنکھوں میں بھرنی ہے روشنی
نظر کا سرمہ کرنا ہے
زرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
ﺫرا لہجہ کی کڑواہٹ دو
زرا بے رخی سے منہ موڑو
لہجے کا کرب لینا ہے
ﺫرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
ﺫرا آؤ ہاتھ بانٹو
ﮈسو اس مٹی کو
کہ پور پور اس بدن کا
زہر خند کرنا ہے
ﺫرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
زرا پلٹو جاتے ہوۓ
امید یں توڑتے جاؤ
تنہا ئی کا انت کرنا ہے
ﺫرا سا درد دینا تم
خود کو تخلیق کرنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






