آنکھیں کھولیں تو دیکھنا چاہییں تمھیں
Poet: Bina By: Bina, Karachiتم سے دور رہنا اک آزمائش ہے میرے لیے
اور سخت گھٹن یہ آزمائش ہے میرے لیے
آنکھیں سوگوار ہوتی ہیں
بینا دل اداس رہتا ہے
بجھے بجھے ہوتے ہیں ہم
کھوئے کھوئے رہتے ہیں ہم
کچھ اچھا نہیں لگتا ہے تمھارے بن
کچھ اچھا نہیں ہوتا ہے تمھارے بن
چار سو اندھیرا ہے تمھارے بنا
ہر سو سناٹا ہے تمھارے بنا
تمھاری وجہ سے چلتی ہیں سانسیں
تمھاری وجہ سے رکتیں ہیں سانسیں
آنکھیں کھولیں تو دیکھنا چاہییں تمھیں
آنکھیں موندے تو دیکھتے ہوئیں تمھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






