...اب یہ کیا سوچنا دل لگانے کے بعد
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااب یہ کیا سوچنا دل لگانے کے بعد
یہ زمانہ ملا اس زمانے کے بعد
مجھ کو تنہا ہی رہنے دو دل کے نگر
پھر چلے آئے ہو تم ستانے کے بعد
جو نگاہوں کے تیروں سے چھلنی کیا
وہ نہ پنچھی بچا پھر نشانے کے بعد
سارے عالم کے ہم کو الم کیا ملے
آن پہنچی خوشی غم اٹھانے کے بعد
اب تو کردو کرم، اب کہاں جائیں ہم
ایک تیرے یہاں آستانے کے بعد
تیرے آنے سے آئی تھی پل بھر خوشی
پھر نہ آئی کبھی تیرے جانے کے بعد
وشمہ آنکھوں کو ملتی نہیں روشنی
اپنے گھر میں بھی سورج جلانے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






