ارض پاکستان
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)اے ارض پاک ھر طرف تیری خوشبو مھک رھی ھے
تیرے زرخیز کھیتوں میں ھری فصل لھک رھی ھے
جس نابغہ روزگار نے خواب دیکھا تھا تیرا
اسی ھستی کی قبر سے روشنی چھلک رھی ھے
میرےقائد نے اس خواب کی تعبیر دی ھے ھمیں
جس کی خلش تیرے دشمنوں کے دل میں کٹھک رھی ھے
اس دھرتی کو کبھی تقسیم نہ ھونے دینا میرے پیارے لوگو
یہ سوھنی دھرتی اپنے شہیدوں کے لہو سے چمک رھی ھے
آج تیرے چپے چپے پہ میرے بھائیوں کا خون ارزاں ھے
یہ کیا کیا ھم نے کہ قائد کی روح دھڑک رھی ھے
آج پھر کسی عدو نے میلی آنکھ سے دیکھا ھے تجھے
کہ میرے وطن تیری توپوں کی برق کڑک رھی ھے
اے اھل وطن میرے وطن کی صبعوں کوامن سے روشن کر دو
میرے وطن کے پرندوں کی فوج چہک رھی ھے
لگتا ھے جگنؤں نے پھر سے کر دیا ھے منور تم کو
میرے دیس کے بچوں کی مسکان پھر سے جھلک رھی ھے
حسن خدا کرے کہ دنیا میں میرےوطن کا نام روشن ھو
میرے وطن تیری ثقافتوں کی رنگینی بڑھک رھی ھے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






