"اس کا یہ آخری پیغام تھا میرے لیے"
Poet: By: Maria Ghouri, Haroona abadاس کا یہ آخری پیغام تھا میرے لیے
جدا ہونے لگے ہیں، آنسو مت بہانا
مجھ سے ان آنسوؤں کی قیمت ادا نہ ہو سکے گی.
میرا یہ آخری پیغام تھا اس کے لیے
تم نے کہہ دیا یہ آنکھیں ساون میں بھی نہیں برسیں گیں
پر ان آنکھوں کو تیرا انتظار رہے گا.
اس کا یہ آخری پیغام تھا میرے لیے
ان آنکھوں کو میرے انتظار میں مت رکھنا
یہ نہ ہو یہ پلکیں جھبکنا بھول جائیں
میرا یہ آخری پیغام بھا اس کے لیے
تم نے تو ان آنکھوں کو برسنے سے روکا ہے
پھر یہ پلکیں کیسے جھبک لیں گیں
تم جب بھی آؤ گے ان آنکھوں کو اپنے انتظار میں یوں ہی پاؤ گے
اس کا یہ آخری پیغام تھا میرے لیے
مجھے ان خوبصورت آنکھوں کا مجرم نہ بناؤ
انہیں اس انتظار میں مت رکھو جن کی کوئی منزل نہیں.
میرا یہ آخری پیغام اس کے لیے
تم منزل کی بات کرتے ہو
مجھے ان راستوں کا نہیں پتہ جو عبور کرکے تم آؤ گے:
لیکن یہ آنکھیں تیرے انتظار میں رہیں گیں
اس کا یہ آخری پیغام تھا میرے لیے
تم ضدی کیوں ہو؟
سمجتھی کیوں نہیں؟
ان آنکھوں کی مستی میں کھونے والے بہت ہیں
میرا یہ آخری پیغام تھا اس کے لیے
پر
یہ آنکھیں جس کی مستی میں کھوئیں ہہیں
"وہ تو ایک ہے"
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






