"اعجاز مسیحائی "
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryذکر ہو اس مہربان کا
تو
آجاتی ہے کچھ ایسی حلاوت لہجے میں
سکھیاں میری تعجب سے پوچھتی ہیں
سنو! یہ سارے زمانے کا شہد کیسے تمہاری زبان میں سمو جاتا ہے؟
یہ سارا اس پرغصہ کیسے اتر جاتا ہے؟
میں مسکرا کر اکثر یہ کہتی ہوں
اری پگلیوں! کبھی پهول کی لڑائی بهنورے سے ہوئی ہے؟
کیا کبھی چاند کو چکور سے خفا دیکھا ہے؟
کیا کبھی تالاب کے بغیر کنول کو کھلتے دیکھا ہے؟
وه حیرانگی سے مجھے دیکھ کر کہتی ہیں
ہمیں تو تم جوگن لگتی ہو،پریت کے تار بنتی ہو
نت نئے خواب سجاتی ہو
اپنے ہاتھ اس آگ سے جلاتی ہو
پهر بھی باز نہ آتی ہو
میں ہنس دیتی ہوں
آنکھیں بند کر کے سوچتی ہوں
پریت میں تھی اس کی کچھ ایسی اگن
گزر گئی مدت مجھے کندن بنے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






