اِک عجیب سا درد ہے دل میں سمویا ہوا
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreاِک عجیب سا درد ہے دل میں سمویا ہوا
کوئی سالوں سے ہے جہاں میں سویا ہوا
برسوں گزر گئے ہیں مجھے مرے ہوئے
روح آج بھی ڈھونڈتی ہے کچھ کھویا ہوا
نامعلوم مجھےٗ وہ کون ہے یا کیا ہے؟
دل کس کے لیے ہے اتنا رویا ہوا
نشیب و فراز میں ٗ مَیں خود ہی ملوث
جبکہ کچھ نہیں یہاں غم میں ڈبویا ہوا
مَیں تن تنہا اور یہ مہکی فضا
یہ سارا عالم جنت سے بھگویا ہوا
یہاں کی دھوپ ٗ چمکتے سونے کا روپ
یہاں کا منظر دودھ سے دھویا ہوا
ہریالیاں ہی ہریالیاں میرے ہر سو مگر
مجھ میں شجر بے کلی کا اِک بویا ہوا
یہ اونچے نیچے تنہا خالی مکانوں کو
میری تلاش نے ہے مسلسل پرویا ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






