"اک کام تو کرتا ہوں میں ” رونے کی طرح کا
Poet: By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonموتی میں سمندر کو پِرونے کی طرح کا
اک قطرہ کرے کام ڈبونے کی طرح کا
ادوں کے تسلسل سے پریشان سا ہوکر
اک کام تو کرتا ہوں میں ” رونے کی طرح کا”
عرصے سے مری نیند سے “یاداللہ ” نہیں ہے
جاگا بھی تو لگتا ہوں میں “سونے کی طرح کا “
ہاں یاد ہے جب آئے تو وہ گھر میں ہمارے
کچھ میں نے بِچھایا تھا ” بِچھونے کی طرح کا “
تکیہ تو نہیں لایا ہوں رومال میں اُ س کا
اِمشب ہے مجھے کام ” بِھگونے کی طرح کا “
شاکی ہی رہا رہا دل یہ مرا پاس تھا جب تک
اُ س نے بھی رکھا دل کو کِھلونے کی طرح کا
اس موڑ پہ یہ عشق مجھے لایا ہے یارو
نہ ہونے پہ لگتا ہے وہ ” ہونے کی طرح کا “
ساتھی وہ مرا ہوکے مرے ساتھ نہیں ہے
مفتی اُسے پایا بھی ہے ” کھونے کی طرح کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






