بس ایک نظر پیار سے تو اٹھا کر دیکھ لے
Poet: Asad By: Asad, mpkستمگر !!! اور ستم تو ڈھا کر دیکھ لے
ہمیں ہر طریقے سے تو آزماکر دیکھ لے
وفا کے پتلے ہیں ھم توڑ نبھائیں گے
رشتوں میں گانٹھ تو چاھے لگا کر دیکھ لے
اس سیما پر لے جا پہنچے ہیں تیرا عشق
جس کے آگے حد نہیں کوئی آ کر دیکھ لے۔۔
کس نے کہا کہ ھم یار خفا ہیں تجھ سے ؟؟
دوڑے چلے آئیں گے بس ہمیں تو بلا کر دیکھ لے
غیروں کی دوستی سے کیا غرض ھے ہم کو ؟
ہم ہیں یار تمہارے ہمیں اپنا کر دیکھ لے
اسد چڑھا دے سولی اگر مقصود ھے تم کو
بس ایک نظر پیار سے تو اٹھا کر دیکھ لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






