بے حساب
Poet: Darakhshanda By: Darakhshanda, houston نہ جرم ہوا نہ ہوی کوئی خطا
لگے الزام محبت میں بے حساب
عدالت بھی اسکی فیصلہ بھی اسکا
ہوا محبت سے بری یوں وہ بے حساب
طفل مکتب تھے ہم اور وہ ماہر نصاب
بدلتا رہا باب محبت کے وہ بے حساب
خاموشی کو دے گیا نا اہلی کا خطاب
تھا اپنی لیاقت پر جسکو زعم بےحساب
جلا دیئے وہ محبت نامے ہم نے بے اختیار
لکھےتھے کسی اور کے نام اس نےبےحساب
چل نہ سکا یوں وہ دو قدم بھی میرے ساتھ
کیئے جس نے عہد و پیماں محبت میں بےحساب
سزا دیتے اسے ہم بھی یوں بے حساب
گر رکھتے نہ اس دل میں محبت بے حساب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






