تھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiتھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں
دل کو بہلا کے بھی دیکھ لیا، سکون آتا ہی نہیں
رات بھر شمع کی صورت میں تڑپتا ہوں مگر
کوئی پروانہ مرے حال پہ اب آتا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ اسے یاد نہ کریں لیکن
دل ہے کہ اک لمحہ بھی اسے بھول پاتا ہی نہیں
کوئی امید کی کرن بھی نہیں اب دل میں
جیسے اس شہر میں سورج کبھی آتا ہی نہیں
وہ جو وعدہ تھا ملاقات کا، خوابوں میں سہی
اب تو خوابوں میں بھی وہ شخص نظر آتا ہی نہیں
یوں تو ہر شخص تسلّی کے لیے آتا ہے
کوئی اس درد کو لیکن کبھی سمجھاتا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہی حالِ دلِ زار اپنا
جس کو چاہا تھا وہی پاس بلاتا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






